وہ میری میکشی پر ان دنوں ہیں طعنہ زن ساقی
چرا کر بیچ دیتے ہیں جو مُردوں کا کفن ساقی
جنابِ شیخ کی داڑھی بھی جا الجھی ہے زلفوں میں
بہت پُر فن ہیں لندن کے بتانِ سیم تن ساقی
جوانی تو ہے دیوانی، مگر اس پر تعجب ہے
بزرگوں میں نہیں ہے وہ بزرگوں کا چلن ساقی
غضب ہے، آج یہ کھٹمل انہی کا خون پیتے ہیں
جنہوں نے خون سے سینچا تھا یہ سارا چمن ساقی
جہالت شوق سے چڑھ چڑھ کے بیٹھے مل کی چمنی پر
مگر فٹ پاتھ پر ٹھیلہ لگائیں علم و فن ساقی
مجید اب شعر تو کہتا ہے لیکن فائدہ کیا ہے
نہ وہ اہلِ سخن باقی، نہ وہ بزمِ سخن ساقی
مجید لاہوری
No comments:
Post a Comment