Saturday, 22 May 2021

وہ میری مے کشی پر ان دنوں ہیں طعنہ زن ساقی

 وہ میری میکشی پر ان دنوں ہیں طعنہ زن ساقی

چرا کر بیچ دیتے ہیں جو مُردوں کا کفن ساقی

جنابِ شیخ کی داڑھی بھی جا الجھی ہے زلفوں میں

بہت پُر فن ہیں لندن کے بتانِ سیم تن ساقی

جوانی تو ہے دیوانی، مگر اس پر تعجب ہے

بزرگوں میں نہیں ہے وہ بزرگوں کا چلن ساقی

غضب ہے، آج یہ کھٹمل انہی کا خون پیتے ہیں

جنہوں نے خون سے سینچا تھا یہ سارا چمن ساقی

جہالت شوق سے چڑھ چڑھ کے بیٹھے مل کی چمنی پر

مگر فٹ پاتھ پر ٹھیلہ لگائیں علم و فن ساقی

مجید اب شعر تو کہتا ہے لیکن فائدہ کیا ہے

نہ وہ اہلِ سخن باقی، نہ وہ بزمِ سخن ساقی


مجید لاہوری

No comments:

Post a Comment