Saturday, 9 July 2022

افسردہ ہیں افلاک و زمیں عید مبارک

 افسردہ ہیں افلاک و زمیں، عید مبارک

آزردہ مکان اور مکیں، عید مبارک

یہ صبحِ مسرت ہے کہ شامِ غریباں

رنجیدہ و دلگیر و حزیں، عید مبارک

کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے

کب آئے گا وہ دورِ حسیں، عید مبارک

محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا

مولا ہے نگہبان و امیں، عید مبارک

یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا

گو بات یہ کہنے کی نہیں، عید مبارک

بھر نعرۂ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں

آ پہنچا ہے وہ وقت قریں، عید مبارک

مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے

مومن کا ہے دل عرش بریں، عید مبارک

ملت سے شہیدوں کا لہو کہتا ہے واصف

دنیا کے عوض بیچ نہ دیں، عید مبارک


واصف علی واصف

No comments:

Post a Comment