جب میں دریا سے ملا اپنی پشیمانی پر
ایک حیرت سی نمودار ہوئی پانی پر
یاد آتا ہے مجھے جب بھی وہ ماں کا بوسہ
چمک اٹھتے ہیں ستارے مِری پیشانی پر
میری کایہ بھی کسی وقت پلٹ سکتی ہے
اس قدر خوش بھی نہ ہو میری پریشانی پر
اِس طرح دیکھ نہ بھرپور توجہ سے مجھے
تجھ کو مامور نہ کر لوں میں نگہبانی پر
میں کھلا دشت پہ اور دشت کھلا مجھ پہ برار
مل کے حیرت ہوئی ویرانی کو ویرانی پر
نادر برار شاہ
No comments:
Post a Comment