Tuesday, 9 March 2021

جب میں دریا سے ملا اپنی پشیمانی پر

 جب میں دریا سے ملا اپنی پشیمانی پر

ایک حیرت سی نمودار ہوئی پانی پر

یاد آتا ہے مجھے جب بھی وہ ماں کا بوسہ

چمک اٹھتے ہیں ستارے مِری پیشانی پر

میری کایہ بھی کسی وقت پلٹ سکتی ہے

اس قدر خوش بھی نہ ہو میری پریشانی پر

اِس طرح دیکھ نہ بھرپور توجہ سے مجھے

تجھ کو مامور نہ کر لوں میں نگہبانی پر

میں کھلا دشت پہ اور دشت کھلا مجھ پہ برار

مل کے حیرت ہوئی ویرانی کو ویرانی پر


نادر برار شاہ

No comments:

Post a Comment