جملہ اعداد سے، نے حرف مِلانے سے کُھلا
حجلۂ عِلم تِرے غار میں آنے سے کھلا
رات کے نصف کو ہم سینۂ شب جانتے ہیں
شب کا سینہ تِرے قرآن سنانے سے کھلا
ہم تو گِنتی ہی گِنے جانے کے دھوکے میں رہے
حُسنِ ترتیب تِرے بعد میں آنے سے کھلا
دِھیما دِھیما تو ستارے بھی بتاتے تھے، مگر
سنگ لو دیتا ہے یہ تیرے سرہانے سے کھلا
شبیر حسن
No comments:
Post a Comment