وہ حرفوں کو صداقت آشنا ہونے نہیں دیتا
وفا دشمن کوئی وعدہ وفا ہونے نہیں دیتا
حقیقت میں کسی سے بھی نہیں دوستی اس کی
بظاہر جو کسی کو بھی خفا ہونے نہیں دیتا
کہیں سیلِ ندا اس کو بہا کر ہی نہ لے جائے
وہ بستی کو ہم آغوشِ صدا ہونے نہیں دیتا
زمانہ اس لیے میرا مخالف ہے کہ میں عارف
کسی صورت بھی توہینِ انا ہونے نہیں دیتا
سید عارف
No comments:
Post a Comment