اک مسافر نے لگائی تھی صدا؛ پانی ہے؟
ریت چمکی تو اسے بھی یہ لگا، پانی ہے
ڈوبنے والوں پہ جو نظم لکھی تھی میں نے
اس کا عنوان مجھے رکھنا پڑا؛ پانی ہے
اتنے پتھر بھی نہ ڈالو کہ تمہیں کچھ نہ ملے
پہلے مٹکے میں بھی دیکھو نا ذرا پانی ہے؟
اس پہ فتوے بھی لگائیں اسے پروا بھی نہیں
ایک پیاسے نے کہا؛ میرا خدا پانی ہے
مصور عباس
No comments:
Post a Comment