محبت
سنو محبت کا واسطہ ہے
محبت اک خواب کا جزیرہ
جزیرے اندر تمام وحشی
تمام وحشی مِرے قبیلے کو کھا چکے ہیں
میں آخری جھیل کا کنارہ
زمیں پر انسان افق پہ تارہ
میں ایک وحشت میں اپنے ناخن چبا چکا ہوں
سنو کہ اب اور کوئی بھی راستہ نہیں ہے
یہ راستہ ہے
سنو! محبت کا واسطہ ہے
ازرم اسلام
No comments:
Post a Comment