جی کے کیا کرتا کیا نہ کرتا میں
مر ہی جاتا اگر نہ مرتا میں
سوچتا ہوں اگر نہ کرتا عشق
صبح کو کیسے شام کرتا میں
کم سے کم کرتا کارِ کاسہ و جام
ہاتھ پر ہاتھ تو نہ دھرتا میں
کیا گزرتا میں لامکانی سے
خود سے گر نہیں گزرتا میں
عشق ہے، یہ کروں تو کیا صاحب
کام ہوتا تو کر گزرتا میں
احمد نوید
No comments:
Post a Comment