Friday, 13 August 2021

جی کے کیا کرتا کیا نہ کرتا میں

 جی کے کیا کرتا کیا نہ کرتا میں

مر ہی جاتا اگر نہ مرتا میں

سوچتا ہوں اگر نہ کرتا عشق

صبح کو کیسے شام کرتا میں

کم سے کم کرتا کارِ کاسہ و جام

ہاتھ پر ہاتھ تو نہ دھرتا میں

کیا گزرتا میں لامکانی سے

خود سے گر نہیں گزرتا میں

عشق ہے، یہ کروں تو کیا صاحب

کام ہوتا تو کر گزرتا میں


احمد نوید

No comments:

Post a Comment