Friday, 13 August 2021

بلا سے برق نے پھونکا جو آشیانے کو

 بلا سے برق نے پُھونکا جو آشیانے کو

چمن میں کیا ہے پتہ چل گیا زمانے کو

کسی کا در جو ملا تو کسی کے ہو کے رہے

کسی کے واسطے ٹُھکرا دیا زمانے کو

عروسِ زیست انہیں کو گلے لگاتی ہے

جو دار پر بھی سُناتے ہیں حق زمانے کو

خلوص دل نہ ہو شامل تو بندگی کیا ہے

زمانہ کھیل سمجھتا ہے سر جُھکانے کو

اُبھر رہی تھی جہاں سے حیاتِ نو کی کرن

بُلا رہا تھا اسی سمت میں زمانے کو

بدل سکو تو بدل دو حیات کے تیور

لبِ حیات ترستے ہیں مُسکرانے کو

اُٹھاؤں برق کے احسان کس لیے فیضی

میں خود ہی آگ لگا دوں نہ آشیانے کو


فیضی نظام پوری

No comments:

Post a Comment