Thursday, 10 February 2022

جہاں کہیں بھی ترا نقش پا ملے گا مجھے

 جہاں کہیں بھی تِرا نقشِ پا ملے گا مجھے

وہاں سے چار قدم پر خدا ملے گا مجھے

پرِیدہ چشم ہے شانوں پہ بوجھ صحرا کا

ہجومِ شہر! ذرا راستہ ملے گا مجھے؟

بنا ہوا ہے جو میرے وجود کا شاہد

یہی چراغ سرِ شب بُجھا ملے گا مجھے

جہاں پہنچ کے نظر ساتھ چھوڑ جاتی ہے

وہاں بھی روشنی کا در کُھلا ملے گا مجھے

وہ اک شجر جو لگایا تھا ساتھ میں ہم نے

تمازتوں میں ہمیشہ ہرا ملے گا مجھے

نبھائی جا رہی ہے مُدتوں سے رسمِ حیات

کوئی بتائے یہاں کچھ نیا ملے گا مجھے

فسوں طراز ہیں اِس کے مکالمے، لیکن

کسی کے جاتے ہی گھر، بے صدا ملے گا مجھے

سزائے ربط ملے گی تِرے نظاروں کو

سراغِ جسم دریدہ قبا ملے گا مجھے

اُچھال بیٹھا ہے احمد! فلک سے پھر کوئی

میں گِر رہا ہوں کوئی آسرا ملے گا مجھے


احمد نوید

No comments:

Post a Comment