Thursday, 10 February 2022

سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے

 سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے

اب زندگی گزار تو صبرِ جمیل سے

میں نے دِیے کی لَو پہ تیرا اِسم کیا پڑھا

اک روشنی سی پُھوٹ پڑی تھی فصیل سے

دل کو سکون بخش دے اے خالقِ جہاں

تنگ آ گیا ہے اب یہ جہانِ ذلیل سے

کیوں راس مجھ کو عشق بھی آیا نہیں میاں

کیوں سامنا ہوا مِرا ہجرِ قلیل سے

طارق اب اس قدر بھی نہ سچے بنو یہاں

رد بھی کیا نہ جا سکے تم کو دلیل سے


طارق جاوید

No comments:

Post a Comment