یہ تیرے حکم پر انکار کیسا
قبیلے کا ہے تُو سردار کیسا
تجھے دیکھا تو دل کی برف پر بھی
دہک اٹھا ہے اک انگار کیسا
مجھے اپنی خبر کچھ بھی نہیں ہے
بتا مجھ کو ہوں میرے یار کیسا
میں تنہا رہ گیا ہوں اِس کنارے
نجانے ہو گا تُو اُس پار کیسا
بسے گا تیرے دل میں کوئی کیسے
کسی پتھر میں ہو گا غار کیسا
تِری آمد پہ برپا ہو گیا ہے
یہ ہنگامہ سرِ بازار کیسا
تِری نفرت میں اتنی چاشنی ہے
تو پھر ہو گا وہ تیرا پیار کیسا
بتاتا کیوں نہیں واعظ حقیقت
ہے تیرے دل میں خوفِ دار کیسا
گیا تھا مانگنے تُو حق ہمارا
گلے میں ہے یہ تیرے ہار کیسا
جاوید جدون
No comments:
Post a Comment