Thursday, 13 May 2021

مجھ میں آباد سرابوں کا علاقہ کرنے

 مجھ میں آباد سرابوں کا علاقہ کرنے

پھر چلی آئی تری یاد اجالا کرنے

دن مرا پھر بھی کسی طور گزر جائے گا

رات آئے گی اداسی کو کشادہ کرنے

اور بے وقت چلا آتا ہے ساون مجھ میں

ایک گزرے ہوئے موسم کا تقاضا کرنے

میں نے جلتے ہوئے صحرا میں ترا نام لیا

سائباں خود ہی چلا آیا ہے سایہ کرنے

کیسا لاوا ہے تہہ آب یہاں آنکھوں میں

کون آیا ہے سمندر کو جزیرہ کرنے


دنیش نائیڈو

No comments:

Post a Comment