Thursday, 13 May 2021

آدمیوں کے اس میلے میں وقت کی انگلی پکڑے پکڑے

 آدمیوں کے اس میلے میں

وقت کی انگلی پکڑے پکڑے

جانے کب سے گھوم رہا ہوں

کبھی کبھی جی میں آتا ہے

اس میلے کو چھوڑ کے میں بھی

ان ٹیڑھی راہوں پر جاؤں

دور سے جو سیدھی لگتی ہیں

لیکن جانے کیوں اک سایہ

رستہ روک کے کہہ دیتا ہے

وقت کے ساتھ نہ چلنے والے

مرتے دم تک پچھتاتے ہیں

آدمیوں کے میلے میں پھر

واپس کبھی نہیں آتے ہیں


آفتاب شمسی

No comments:

Post a Comment