Saturday, 14 November 2015

اس گلستاں میں ہم بھی متاع بہار ہیں

اس گلستاں میں ہم بھی متاعِ بہار ہیں
سمجھو تو شاخِ گل ہیں نہ سمجھو تو خار ہیں
صحرا کی آبرو ہیں، چمن کا نکھار ہیں
ہم ہیں جہاں بھی، سایۂ ابرِ بہار ہیں
دیکھا ہے ہم نے ان کی نگاہوں میں جھانک کر
جو اہلِ دل کہ حسن کے پروردگار ہیں
ذوقِ نظر تو دیکھ کہ جاں سوز تھی جو برق
آنکھیں اسی کے حسن پہ اب تک نثار ہیں
ہم نے تو قطرہ قطرہ لہو اپنا دے دیا
کیا جانے کیوں چراغ ابھی سوگوار ہیں
دل گم ہے لاشہ ہائے تمنا کے درمیاں
یہ ایک شمع اور ہزاروں مزار ہیں
موسم کوئی بھی آیا، رہے زخمِ دل ہرے
ہم لوگ زخم خوردۂ تیغِ بہار ہیں
اٹھی ہے رسمِ مہر و مروت کچھ اس طرح
اپنے گھروں میں لوگ غریب الدیار ہیں
بہرِ نقوشِ فردا وہی ہوں گے مُؤقلم
ڈوبے ہوئے ہمارے لہو میں جو خار ہیں
ہوتی نہ دل کی بات تو ممکن تھا صبر و ضبط
ہم بے قرار یوں ہیں کہ بے اختیار ہیں
پتھر کو دل بنانا کٹھن ہی سہی کرمؔ
اس کام میں دِوانے مگر ہوشیار ہیں

کرم حیدری

No comments:

Post a Comment