Sunday, 23 August 2020

دل میں طوفان اٹھاتے ہوئے جذبات بھی ہیں

دل میں طوفان اٹھاتے ہوئے جذبات بھی ہیں
ہم ہیں خاموش کہ کچھ اپنی روایات بھی ہیں
محتسب ہی سے نہیں نالہ بہ لب جام و سبو
سنگ اٹھائے ہوئے خود اہلِ خرابات بھی ہیں
مستیوں میں کبھی مل جاتے ہیں انساں اب بھی
جیسے صحراؤں میں، شاداب مقامات بھی ہیں
دیکھیۓ، مجھ سے وہ کب آ کے گلے ملتا ہے
تھے جو میرے وہی اب غیر کے حالات بھی ہیں
اشک ہی اشک نہیں غور سے دیکھو گے، اگر
ان سلگتی ہوئی آنکھوں میں، حکایات بھی ہیں
ان کے دامن پہ لہو،۔ کس کو یقیں آئے گا؟
جن کے چہروں پہ تقدس کی علامات بھی ہیں
کیا کہیں کون سی راہوں میں ہیں پامال کرم
ہم کہ زندہ ہیں، مگر کشتۂ حالات بھی ہیں

کرم حیدری

No comments:

Post a Comment