تمہارے شہر میں بھٹکے ہیں اجنبی کی طرح
کسی نے بات بھی پوچھی نہ آدمی کی طرح
بہت گراں تھی شبِ تار، وہ تو خیر ہوئی
تم اس طرف جو نکل آئے چاندنی کی طرح
یہ ماہتاب سا کچھ ہے، کہ ماہتاب ہے یہ
کسی کی پیاس بجھانے کی آرزو لے کر
تمام دشت میں تنہا ہوں میں ندی کی طرح
زمانہ پھونک چکا تھا ہمیں،۔ مگر شاہد
بِکھر گئے ہم اندھیروں میں روشنی کی طرح
شاہد کبیر
No comments:
Post a Comment