بقدرِ خواہشِ دل ہو سکی نہ بات اس کی
کہ میری سوچ سے بھی خوب تر تھی ذات اس کی
تمام جذبوں کی پاکیزگی کا حاصل تھی
اٹھی جو میری طرف چشمِ التفات اس کی
وہ بے کراں تھا مگر یوں سما گیا مجھ میں
جمالِ رخ نے ہی مجھ کو نہ کر لیا مسحور
تھی گفتگو میں بھی شیرینئ نبات اس کی
تھا حرف و لفظ میں جادو جو اس کی پوروں کا
اتر گئیں مِرے دل میں نگارشات اس کی
میں اس کے پیار میں ڈوبا تو یوں ہوا محسوس
گہر گہر تھی سمندر سے بڑھ کے ذات اس کی
کرم حیدری
No comments:
Post a Comment