Wednesday, 5 October 2022

ہم کبھی ریت کے ٹیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

 ہم کبھی ریت کے ٹیلوں کی طرف دیکھتے ہیں 

اور کبھی گھورتی چیلوں کی طرف دیکھتے ہیں 

ان سے جب پوچھتے ہیں شہر سے جانے کا سبب 

وہ بہت دیر فصیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

اپنے ناکردہ پہ ہوتے ہیں پشیمان بہت

جب کٹہرے سے وکیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

بھوکے بچوں کی نگاہیں نہیں ہٹتیں ہم سے

اور ہم خالی پتیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

ہم سے ملنے کے لیے ان کو بھی درکار ہیں لوگ

آئے دن ہم بھی وسیلوں کی طرف دیکھتے ہیں


شاہجہان سالف

No comments:

Post a Comment