Wednesday, 5 October 2022

ہو سکے تو ٹھیک کر لیں زندگی کے زاویے

 ہو سکے تو ٹھیک کر لیں زندگی کے زاویے

بے نشاں کر دیں گے ورنہ خوبصورت حادثے

ہے اگر الفاظ سے رشتہ کسی ترسیل کا

بے خطر ادراک کے سارے دریچے کھولیے

کام آ جاتی ہے تھوڑی سے شناسائی کبھی

ریشمی احساس کا کچھ عکس رہنے دیجیے

کس طرح گیلی تھکاوٹ سے نکل پائے گا وہ

پیڑ کے اوپر ہے سورج، اور لمبے راستے

خوش نگاہی اوڑھ کر بازار میں جائیں نہ آپ

ہر طرف بکھرے پڑے ہیں شیر، چیتے، بھیڑئیے

ڈال دیں گے تم کو ثاقب! روشنی کی راہ پر

بے اماں احساس کے یہ ٹوٹے پھوٹے سلسلے


احسان ثاقب

No comments:

Post a Comment