ہو سکے تو ٹھیک کر لیں زندگی کے زاویے
بے نشاں کر دیں گے ورنہ خوبصورت حادثے
ہے اگر الفاظ سے رشتہ کسی ترسیل کا
بے خطر ادراک کے سارے دریچے کھولیے
کام آ جاتی ہے تھوڑی سے شناسائی کبھی
ریشمی احساس کا کچھ عکس رہنے دیجیے
کس طرح گیلی تھکاوٹ سے نکل پائے گا وہ
پیڑ کے اوپر ہے سورج، اور لمبے راستے
خوش نگاہی اوڑھ کر بازار میں جائیں نہ آپ
ہر طرف بکھرے پڑے ہیں شیر، چیتے، بھیڑئیے
ڈال دیں گے تم کو ثاقب! روشنی کی راہ پر
بے اماں احساس کے یہ ٹوٹے پھوٹے سلسلے
احسان ثاقب
No comments:
Post a Comment