زر کی طاقت سے کیا نہیں ہوتا
صرف بندہ خدا نہیں ہوتا
لاکھ دیواریں آپ اٹھا دیجے
خون خوں سے جدا نہیں ہوتا
سر بہ سجدہ قدم قدم، لیکن
حق یہ ہے حق ادا نہیں ہوتا
گمرہی میں بھٹکتی رہتی جبیں
گر تِرا نقش پا نہیں ہوتا
جنبشِ لب سے کچھ نہیں حاصل
جنبشِ پا سے کیا نہیں ہوتا
سازِ دل چُور چُور ہو کر بھی
ہے صفت بے صدا نہیں ہوتا
واقفِ رمزِ بندگی نغمی
زاہدؔ پارسا نہیں ہوتا
ابرار نغمی
No comments:
Post a Comment