Monday, 19 December 2016

محبت میں آیا ہے تنہا ابھی رنگ

محبت میں آیا ہے تنہا ابھی رنگ
بدلنے لگی ہے مگر زندگی رنگ
بہاروں کے آنچل میں خوشبو چھپی ہے
گلوں کی صبا میں بھرے ہیں سبھی رنگ
تمہارے بِنا سب ادھورے ہیں جاناں
صبا، پھول، خوشبو، چمن، روشنی، رنگ
جو بھولے سے بچپن میں پکڑی تھی تتلی
سرورِ وفا میں بھی اترا وہی رنگ
نہ جانے کہاں سے برستی ہے بارش
سجاتی ہے تیرے اگر دلبری رنگ
ملے اندرا میرا پیغام ان کو
لیے ہے مکمل مِری شاعری رنگ

اندرا ورما

No comments:

Post a Comment