شفق کے رنگ نکلنے کے بعد آئی ہے
یہ شام دھوپ میں چلنے کے بعد آئی ہے
یہ روشنی تِرے کمرے میں خود نہیں آئی
شمع کا جسم پگھلنے کے بعد آئی ہے
اسی طرح سے رکھو بند میری آنکھیں اب
یقین ہے کہ کبھی بے اثر نہیں ہو گی
دعا لبوں پہ مچلنے کے بعد آئی ہے
ندی جو پیار سے بہتی ہے ریگزاروں میں
یہ پتھروں میں اچھلنے کے بعد آئی ہے
تھی جس بہار کی الجھن تمام مدت سے
وہ اندرا کے بہلنے کے بعد آئی ہے
اندرا ورما
No comments:
Post a Comment