Monday, 19 December 2016

شفق کے رنگ نکلنے کے بعد آئی ہے

شفق کے رنگ نکلنے کے بعد آئی ہے
یہ شام دھوپ میں چلنے کے بعد آئی ہے
یہ روشنی تِرے کمرے میں خود نہیں آئی
شمع کا جسم پگھلنے کے بعد آئی ہے
اسی طرح سے رکھو بند میری آنکھیں اب
کہ نیند خواب بدلنے کے بعد آئی ہے
یقین ہے کہ کبھی بے اثر نہیں ہو گی
دعا لبوں پہ مچلنے کے بعد آئی ہے
ندی جو پیار سے بہتی ہے ریگزاروں میں
یہ پتھروں میں اچھلنے کے بعد آئی ہے
تھی جس بہار کی الجھن تمام مدت سے
وہ اندرا کے بہلنے کے بعد آئی ہے

اندرا ورما

No comments:

Post a Comment