Monday, 19 December 2016

دل کے بے چین جزیروں میں اتر جائے گا

دل کے بے چین جزیروں میں اتر جائے گا 
درد آہوں کے مقدر کا پتہ لائے گا 
میرے بچھڑے ہوئے لمحات سجا کر رکھنا 
وقت لفظوں میں غزل بن کے ٹھہر جائے گا 
اس کی ہر بات جفا پیشہ ہوئی ہے اکثر 
زخم کا خوف کبھی اس کو بھی دہلائے گا 
وقت خاموش ہے ٹوٹے ہوئے رِشتوں کی طرح 
وہ بھلا کیسے مِرے دل کی خبر پائے گا 
شام غم آج بھی گزری ہے حسیں خوابوں میں 
غم جاناں تو محبت میں ستم ڈھائے گا 
دل مِرا آج جفاؤں پہ بہت نازاں ہے 
میرے ہونٹوں پہ تبسم ہی نظر آئے گا 
اس کے مضراب سے جب راگ بنیں گے دِیپک 
میگھ چپکے سے مِرے دل پہ برس جائے گا 

اندرا ورما

No comments:

Post a Comment