شکستہ دل اندھیری شب اکیلا راہبر کیوں ہو
نہ ہو جب ہمسفر کوئی تو اپنا بھی سفر کیوں ہو
کسی کی یاد میں آنسو کا رشتہ اس طرح رکھو
کہ دل پہلو اگر بدلے تو چہرہ تر بتر کیوں ہو
مِرے ہمدم، مِرے دلبر، ذرا اتنا بتا دینا
کوئی بے درد ہو تو درد دل میں اس قدر کیوں ہو
کبھی بھولے سے جو پیغام ان کا آیا بھی اک دن
جدائی کی تڑپ میں روز ایسا ہی اثر کیوں ہو
نشہ آنکھوں میں لے کر سو رہو اے جاگنے والو
اگر یہ آنکھ کھل جائے تو خوابوں کا گزر کیوں ہو
پریشاں رات میں دل ہے چراغ آس کی مانند
شب وعدہ نہ آئے وہ تو روشن سی سحر کیوں ہو
مسلسل رات دن چلنا ہے راہ عشق میں تنہا
کسی کے واسطے یہ راہ آخر مختصر کیوں ہو
محبت میں سنا ہے راہ دل کی دل سے ہوتی ہے
اگر یوں اندؔرا تڑپے تو جاناں بے خبر کیوں ہو
اندرا ورما
No comments:
Post a Comment