Wednesday, 12 May 2021

شکستہ دل اندھیری شب اکیلا راہبر کیوں ہو

 شکستہ دل اندھیری شب اکیلا راہبر کیوں ہو

نہ ہو جب ہمسفر کوئی تو اپنا بھی سفر کیوں ہو

کسی کی یاد میں آنسو کا رشتہ اس طرح رکھو

کہ دل پہلو اگر بدلے تو چہرہ تر بتر کیوں ہو

مِرے ہمدم، مِرے دلبر، ذرا اتنا بتا دینا

کوئی بے درد ہو تو درد دل میں اس قدر کیوں ہو

کبھی بھولے سے جو پیغام ان کا آیا بھی اک دن

جدائی کی تڑپ میں روز ایسا ہی اثر کیوں ہو

نشہ آنکھوں میں لے کر سو رہو اے جاگنے والو

اگر یہ آنکھ کھل جائے تو خوابوں کا گزر کیوں ہو

پریشاں رات میں دل ہے چراغ آس کی مانند

شب وعدہ نہ آئے وہ تو روشن سی سحر کیوں ہو

مسلسل رات دن چلنا ہے راہ عشق میں تنہا

کسی کے واسطے یہ راہ آخر مختصر کیوں ہو

محبت میں سنا ہے راہ دل کی دل سے ہوتی ہے

اگر یوں اندؔرا تڑپے تو جاناں بے خبر کیوں ہو


اندرا ورما

No comments:

Post a Comment