کس لیے میرے خیالات پہ دھرنے دینا
شعر اترتا ہے تو پھر کیوں نہ اترنے دینا
مجھ کو دنیا میں گناہوں کی اجازت دے دے
جو یہاں کر لوں وہ جنت میں نہ کرنے دینا
یہ دلیری بڑے نقصان کیا کرتی ہے
بچے بچپن میں اگر ڈرتے ہوں، ڈرنے دینا
اس کو تبلیغ نہ کرنا جو بہت روتا ہو
ظلم مت کرنا ، خدارا اسے مرنے دینا
ایک قانون بنایا ہے سو خوش رہتا ہوں
جو بھی وعدوں سے مکر جائے، مکرنے دینا
دل محلہ ہے ، کوئی آئے ، گزر جائے ، رہے
اس محلے کوئی کچھ بھی کرے، کرنے دینا
میرا ہر فیصلہ اک اچھی خبر لاتا ہے
میں بکھرنے بھی لگوں، مجھ کو بکھرنے دینا
افکار علوی
No comments:
Post a Comment