Wednesday, 12 May 2021

وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں

 وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں 

دل جلانے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں 

زورِ وحشت بھی اگر کم ہو تو چلنا ہے مدام 

سر چھپانے کے لیے دشت میں سایہ ہی نہیں 

جل کے ہم راکھ ہوئے ہیں کہ بنے ہیں کندن 

جوہری بن کے کسی شخص نے پرکھا ہی نہیں 

گرد شہرت کو بھی دامن سے لپٹنے نہ دیا 

کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں 

میری آنکھوں میں وہی شوق تماشا تھا نعیم

اس نے جھک کر مِری تصویر کو دیکھا ہی نہیں 


حسن نعیم

No comments:

Post a Comment