Friday, 19 March 2021

سب کی موجودگی سمجھتا ہے

 سب کی موجودگی سمجھتا ہے

دل کسی کی کمی سمجھتا ہے

ایک ہی شخص سے میں واقف ہوں

جو مجھے اجنبی سمجھتا ہے

گو مجھے جانتا نہیں، لیکن

وہ مِری شاعری سمجھتا ہے

وصل کے اشک، ہجر کے آنسو

وہ نمی کو نمی سمجھتا ہے

وہی میری زباں سے ہے واقف

جو مِری خامشی سمجھتا ہے

آپ کے سامنے میں خوش ہوں مگر

میرے دُکھ رام ہی سمجھتا ہے

یہی اردو زباں کا ہے جادو

اب مجھے ہر کوئی سمجھتا ہے

میں اسے بات دل کی کہتا ہوں

وہ اسے شاعری سمجھتا ہے

اتنا نادان بھی نہیں ہے وہ

جو تمہاری ہنسی سمجھتا ہے

کون مہتاب اب تمہارا ہے؟

کون دل کی لگی سمجھتا ہے


بشیر مہتاب

No comments:

Post a Comment