زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہے
اس نے سنا نہیں کہ؛ خدا بے نیاز ہے
تم شمع رو ہو میں تو مجسم ہوں ایک شمع
رگ رگ میں میری حالتِ سوز و گداز ہے
پہلے گناہ گار ہی پہنچے بہشت میں
وہ تو بڑا کریم،۔ بڑا بے نیاز ہے
اے ہمرہاں! بڑھائے ہوئے اب قدم چلو
دن مختصر ہے، اور مسافت دراز ہے
نادر نکل گیا ہے اگر کوئی شعر گرم
سینہ کا سوز ہے، مِرے دل کا گداز ہے
نادر کاکوری
نادر کاکوروی
No comments:
Post a Comment