Friday, 17 December 2021

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

 کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا

ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے

لبِ ساحل سے جو ہلکا سا اشارا ہوتا

تم ہی واقف نہ تھے آدابِ جفا سے، ورنہ

ہم نے ہر ظلم کو ہنس ہنس کے سہارا ہوتا

غم تو خیر اپنا مقدر ہے سو اس کا کیا ذکر

زہر بھی ہم کو بصدِ شوق گوارا ہوتا

باغباں تیری عنایت کا بھرم کیوں کھلتا

ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا

تم پر اسرارِ فنا، رازِ بقا کھل جاتے

تم نے ایک بار تو یزداں کو پکارا ہوتا


پروین فنا سید

No comments:

Post a Comment