آج ہم اس کو لڑا دیں گے تِرے تیر کے ساتھ
آہ بھی تیر ہے گر آہ ہے تاثیر کے ساتھ
اب کسی فتنۂ محشر کے بنیں گے شاگرد
ہم بھی اب چال چلیں گے فلک پیر کے ساتھ
دل پری خانہ بنا،۔ عکسِ پری پیکر سے
اُڑ چلا سارا مکاں ایک ہی تصویر کے ساتھ
یہ مِرا نامۂ اعمال ہے اے داورِ حشر
تُو اسے دیکھ ملا کر خطِ تقدیر کے ساتھ
نادر کاکوری
نادر کاکوروی
No comments:
Post a Comment