Wednesday, 22 December 2021

بھنور میں مشورے پانی سے لیتا ہوں

 بھنور میں مشورے پانی سے لیتا ہوں

میں ہر مشکل کو آسانی سے لیتا ہوں

جہاں دانائی دیتی ہے کوئی موقع

وہاں میں کام نادانی سے لیتا ہوں

وہ منصوبے ہیں کچھ آباد ہونے کے

میں جن پر رائے ویرانی سے لیتا ہوں

اب اپنے آبلوں کی گھاٹیوں سے بھی

سمندر دیکھ آسانی سے لیتا ہوں

نہیں لیتا مگر لینے پہ آؤں تو

میں بدلہ آگ کا پانی سے لیتا ہوں

نظر انداز کر دیتی ہے جب دنیا

جنم خود اپنی حیرانی سے لیتا ہوں

جہاں مشکل میں پڑ جاتے ہیں گرد و پیش

وہاں میں سانس آسانی سے لیتا ہوں

لگاتا ہے مِری بینائی پر تہمت

میں فتوے جس کی عریانی سے لیتا ہوں


سرفراز زاہد

No comments:

Post a Comment