Wednesday, 22 December 2021

دل گرفتہ ہوں کہ سرشار مجھے سوچنے دو

 دل گرفتہ ہوں کہ سرشار مجھے سوچنے دو

میں طلب ہوں کہ طلبگار مجھے سوچنے دو

مدتوں سے درِ دل پر کوئی دستک نہ صدا

کیا ہوئے سارے طرحدار مجھے سوچنے دو

مل کے اک بار دوبارہ کوئی ملتا ہی نہیں

میں بُرا ہوں کہ مرے یار مجھے سوچنے دو

میرے احباب کی محفل تھی بس اتنی ہے خبر

کون تھا جس نے کیا وار مجھے سوچنے دو

کہکشاں اتری ہے آنکھوں میں کہ وہ آتے ہیں

شام پھر سے ہوئی گلنار مجھے سوچنے دو


شرافت عباس

No comments:

Post a Comment