دل گرفتہ ہوں کہ سرشار مجھے سوچنے دو
میں طلب ہوں کہ طلبگار مجھے سوچنے دو
مدتوں سے درِ دل پر کوئی دستک نہ صدا
کیا ہوئے سارے طرحدار مجھے سوچنے دو
مل کے اک بار دوبارہ کوئی ملتا ہی نہیں
میں بُرا ہوں کہ مرے یار مجھے سوچنے دو
میرے احباب کی محفل تھی بس اتنی ہے خبر
کون تھا جس نے کیا وار مجھے سوچنے دو
کہکشاں اتری ہے آنکھوں میں کہ وہ آتے ہیں
شام پھر سے ہوئی گلنار مجھے سوچنے دو
شرافت عباس
No comments:
Post a Comment