ہم ایک نئی دنیا بسائیں گے
اور اس دنیا میں
محبوباؤں کے نام پر شہر آباد ہوں گے
جو کسی دیوتا کے نام پر
کبھی بھی جلائے نہیں جائیں گے
جہاں مائیں اپنے بچوں کو گود میں لیے
گُھڑ سواروں کے سامنے گڑگڑا کر
اُن کی زندگی کی بھیک نہیں مانگیں گی
جہاں خوراک و خیرات کے لیے
بنی نوع انسان کو قطاروں میں کھڑا کرنا
قومی جُرم ہو گا
جہاں بارش میں ننگے پاؤں رقص کرنے کی
مکمل آزادی ہو گی
وہاں یہ اصول رائج کیا جائے گا کہ
ہر سال فصل کا پہلا پھول
محبت کی دیوی کے بالوں میں سجے گا
میاں وقار
No comments:
Post a Comment