زمانہ با تو نہ سازد تو باز ما نہ بساز
ہوا جو بادیہ پیما میں سوئے شہر شعور
تو راستہ میں غضب کا پڑا نشیب و فراز
بڑی تو پہلے مجھے آ پڑی یہی دِقت
کہ اس سفر کا کروں کس طرح سے میں آغاز
کروڑ ہا تھے مِرے ہمسفر گروہ گروہ
نئی تراش، نئی وضع اور نیا انداز
مجھے یہ سونچ کہ یا رب! میں ہو رہوں کس کا
ہے ان تمام گروہوں میں کون سا ممتاز
کوئی تھا عاشقِ سرمست جامِ فقر و فنا
کوئی تھا والہ و شیدائے دولت و اعزاز
کہیں حریفوں میں تھا شور؛ ایہا الساقی
کہیں حسینوں میں تھا ہنگامۂ کرشمہ و ناز
کچھ ان میں روتے تھے یعنی ہیں قوم کے ہمدرد
کچھ ان میں گاتے تھے یعنی یہ ہیں ترانہ نواز
کوئی زمیں پہ اڑاتا تھا بگھیاں اپنی
کچھ آسمان پہ مثلِ کبوتر و شہباز
غرض کہ دیکھ کے ان کا وہ جوش اور وہ خروش
وہ قوتِ پر و بازو، وہ ہمتِ تگ و تاز
ہوا کچھ ایسی پروں میں بھری کہ دل نے مِرے
کہا کہ؛ تُو بھی دکھا اپنی قوتِ پرواز
قریب شہر جو پہنچا تو بابِ عالی پر
لکھی ہوئی تھی بخطِ جلی یہ آیتِ راز
کہ اے مسافرِ ایں کارواں سرِاز نہار
زمانہ با تو نہ سازد تو باز ما نہ بساز
نادر کاکوری
نادر کاکوروی
No comments:
Post a Comment