میری بربادی کا اب جشن مناؤ یارو
گھر میرا سامنے میرے ہی جلاؤ یارو
اتنی شدت سے تو برسات بھی کم کم برسے
جِس طرح آنکھ تیری یاد میں چھم چھم برسے
منتیں کون کرے؟ ایک گروندے کے لیے
کہہ دو بادل سے برستا ہے تو چھم چھم برسے
تم کو معلوم ہے آئے گا نہ قاتل میرا
دیر کیوں کرتے ہو میت کو اٹھاؤ یارو
رہتا نہیں انسان تو ہوتا نہیں غم بھی
ایک روز زمین اوڑھ کے سو جائیں گے ہم بھی
ہاں حلفِ وفا شوق سے اُٹھواؤ لیکن
ہم لوگ وفادار ہیں بے قول و قسم بھی
ظلم کی حد سے گزر کر مجھے پتھر مارو
ہو سکے تو میری ہستی کو مٹاؤ یارو
شعار ٹھیک نہیں یہ آدمی کے لیے
کہ دل کسی کے لیے ہو اور زبان کسی کے لیے
نہ اعتبا ر وفا کر کے وہ نگاہِ شریر
کبھی کسی کے لیے کبھی کسی کے لیے
دشمنوں نے جو جلائی ہیں لحد پر میری
وہ شمع آخری سب مل کے بجاؤ یارو
عشرت گودھروی
No comments:
Post a Comment