اندھیارے کی اس آڑھت میں سب کچھ بیچا جا سکتا ہے
روح کی بولی لگ جاتی ہے جسم خریدا جا سکتا ہے
دامنِ چاک کا رونا کیسا چاک جگر کے سل جاتے ہیں
درد زیادہ بڑھ جائے تو دل بھی دھویا جا سکتا ہے
اس نے میسیج میں پوچھا ہے مجھ سے مل کر کیا کرنا ہے
میں نے کہا جی سچ پوچھیں تو زلف سے کھیلا جا سکتا ہے
ظلم سے گھبرائے چوہوں کے ہاتھ نئی تدبیر لگی ہے
بلی کو گھنٹی باندھیں گے کون البیلا جا سکتا ہے
حوا تری اک فرمائش پر جنت چھوڑی جا سکتی ہے
دھرتی پر جو ساتھ ہو تیرا غم بھی جھیلا جا سکتا ہے
اب کی بار جو دن نکلا تو بندہ بشر بھی ڈھونڈ ہی لوں گا
ایسی بھیانک رات ہے باہر، کون اکیلا جا سکتا ہے
تاروں کی خاموش سبھا میں سیاروں کے گھن چکر پر
تھال اس آبی سیارے کا دھم سے انڈیلا جا سکتا ہے
شعیب افضال
No comments:
Post a Comment