Thursday, 12 November 2020

یہ غم رہے نہ رہے غم نگاری رہ جائے

 یہ غم رہے نہ رہے، غم نگاری رہ جائے

ہمارے بعد بھی حالت ہماری رہ جائے

یہ پھول جھڑنے سے بچ جائیں منجمد ہو کر

شجر پہ یونہی اگر برف باری رہ جائے

خواص اور بھی معلوم ہو سکیں شاید

ہماری خاک پہ تحقیق جاری رہ جائے

مری زمین کے موسم بدلتے جاتے ہیں

مگر خدا کرے، خوشبو تمہاری رہ جائے

وہ دن نہ آئے کہ چھالے ہی گنتا رہ جاؤں

وہ شب نہ آئے کہ انجم شماری رہ جائے

قدم نہ ہوں بھی تو محوِ قیام رہ جاؤں

جبیں نہ ہو بھی تو سجدہ گزاری رہ جائے

شعاعیں شام و سحر پھوٹتی رہیں شاہد

ہمارے دل کی یونہی تابکاری رہ جائے


شاہد ماکلی

No comments:

Post a Comment