یہ جو ہنسی کی بات پہ نم دِیدہ وقت ہے
شاید مرے مذاق پہ رنجیدہ وقت ہے
ہر چیز کو دھکیل رہا ہے فنا کی سمت
کس درجہ اپنے کام میں سنجیدہ وقت ہے
دیکھا ہے گھوم پھر کے کوئی آدمی نہیں
سب سے بڑا جہاں میں، جہاں دیدہ وقت ہے
اک پَل کو بھی اکیلا مجھے چھوڑتا نہیں
آسیب کی طرح مرا گرویدہ وقت ہے
ہر شام زندگی سے میں ہوتا ہوں ہمکلام
غاؔئر یہ وقت، میرا پسندیدہ وقت ہے
کاشف حسین غائر
No comments:
Post a Comment