Friday, 19 March 2021

کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں

 منتظر ہیں مگر قمیصوں کے


کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں

جن کی آنکھوں کے گہرے حلقوں میں

آس کے دِیپ جھِلملاتے ہیں

جیسے پانی میں چاندنی جھلکے

جیسے اشکوں کی تیز بارش میں

مسکراہٹ ہو اپنے یوسف کی

کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں

جن کو شکوہ بھی ہے جدائی کا

اور سینوں میں ہول اٹھتے ہیں

آندھیاں درپئے رگِ دَم ہیں

لیکن آنکھوں میں دِیپ ہیں پنہاں

منتظر ہیں مگر قمیصوں کے

کوئی آئے گا روشنی لے کر

اسی اُمید کے سہارے پر

کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں


یعقوب آسی

No comments:

Post a Comment