Friday, 4 February 2022

سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے

 سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے

مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے

کم مائیگیٔ حرفِ تشکر مجھے بتلا

یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے

جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو بوڑھے شجر کو

ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے

ڈر تھا کہ وہ بچھڑا تو تبسم سے گئے ہم

کیا جانیے اس ہجر میں اب رو بھی سکیں گے

اک بار کا اظہار وہ صد خونِ انا تھا

اس داغِ تمنا کو کبھی دھو بھی سکیں گے


یعقوب آسی

No comments:

Post a Comment