Saturday, 10 April 2021

دل کے نزدیک تو سایہ بھی نہیں ہے کوئی

 دل کے نزدیک تو سایا بھی نہیں ہے کوئی

اس خرابے میں تو آیا بھی نہیں ہے کوئی

ہر سراغ اپنی جگہ ریت میں معدوم ہوا

دور تک نقشِ کفِ پا بھی نہیں ہے کوئی

اپنے سُوکھے ہوئے گُلدان کا غم ہے مجھ کو

آنکھ میں اشک کا قطرہ بھی نہیں ہے کوئی

دُور سے ایک ہیولیٰ سا نظر آتا ہے

پاس سے دیکھو تو ملتا بھی نہیں کوئی

کتنے دن ہوتے ہیں ہاتھوں میں قلم تک نہ لیا

کاغذوں میں نظر آتا بھی نہیں ہے کوئی

ایک ہی سطر لکھی تھی کہ یہ احساس ہوا

لفظ اور معنی میں رشتہ بھی نہیں ہے کوئی


عتیق اللہ

No comments:

Post a Comment