Sunday, 11 April 2021

ارے تم کون ہو میرے

تم کون ہو میرے


ارے تم کون ہو میرے

مِرے خوابوں میں آتے ہو

خیالوں پر بھی چھا جاتے ہو

ذرا سا مسکراتے ہو

مِرے دل کو لُبھاتے ہو

مِری آنکھوں کی مستی کو سرور و مے بھی کہتے ہو

مِرے ہونٹوں کی نرمی کو گلابوں سے ملاتے ہو

ارے تم کون ہو میرے

گھنیرے بالوں جیسے

مِری ہستی پر چھاتے ہو

مدھر چاہت کی برکھا میں مِرا تن من جلاتے ہو

ارے تم کون ہو میرے؟

شب تنہائی میں آ کر

مجھے دلہن بناتے ہو

مگر دنیا کے میلے میں

مِرے سارے سوالوں پر بڑے گُم سُم سے رہتے ہو

بِنا جو پوچھے مِری دنیا سے واپس لوٹ جاتے ہو

ارے تم کون ہو میرے؟

میں روتی ہوں، تڑپتی ہوں

تمییں واپس بلاتی ہوں

کئی صدیاں بِتا کے پھر

مِری دنیا میں آتے ہو

کسی سے پوچھ کر میرا

مجھے ملنے بھی آتے ہو

لحد کو دیکھ کر میری

ذرا سا سر جھُکاتے ہو

یونہی کچھ سوچ کر اس کو

گُلابوں سے سجاتے ہو

چھُپے خاروں سے سینے میں نئے گھاؤ لگاتے ہو

ارے تم کون ہو میرے؟

سحر کی زندگی تم ہو

پر اس کو دُکھ ہی دیتے ہو

بتاؤ تو سہی اے دُشمنِ جاں کون ہو میرے؟

ارے تم کون ہو میرے؟

ارے تم کون ہو میرے؟


سبینہ سحر

No comments:

Post a Comment