Monday, 3 May 2021

خود کو فقدان سے نکالوں گا

 خود کو فقدان سے نکالوں گا

نفع نقصان سے نکالوں گا

کھیل کھیلوں گا میں اکیلے اب

سب کو میدان سے نکالوں گا

یعنی پتوار توڑ دوں گا اور

ناؤ طوفان سے نکالوں گا

وہ جو امکان میں نہیں میرے

اس کو امکان سے نکالوں گا

اور پھر ایک دن سفر سارے

اپنے سامان سے نکالوں گا

ایک اِک کو پکڑ پکڑ کر میں

اب گریبان سے نکالوں گا

جو ہیں دشمن مِرے کراچی کے

ان کو ایوان سے نکالوں گا


سحرتاب رومانی

No comments:

Post a Comment