خود کو فقدان سے نکالوں گا
نفع نقصان سے نکالوں گا
کھیل کھیلوں گا میں اکیلے اب
سب کو میدان سے نکالوں گا
یعنی پتوار توڑ دوں گا اور
ناؤ طوفان سے نکالوں گا
وہ جو امکان میں نہیں میرے
اس کو امکان سے نکالوں گا
اور پھر ایک دن سفر سارے
اپنے سامان سے نکالوں گا
ایک اِک کو پکڑ پکڑ کر میں
اب گریبان سے نکالوں گا
جو ہیں دشمن مِرے کراچی کے
ان کو ایوان سے نکالوں گا
سحرتاب رومانی
No comments:
Post a Comment