وہ جنگ انا کی جیت گیا
میں ہار گیا میں بیت گیا
پل پل میرے پھر سال ہوئے
پھر سال یوں سال بہ سال ہوئے
وہ لمحوں میں ہی جیت گیا
میں لمحوں میں ہی بیت گیا
وہ جنگ انا کی جیت گیا
میں ہار گیا میں بیت گیا
کچھ میرے پاس بھی رہنے دو
جو کہنا تھا مجھے کہنے دو
وہ سب کچھ میرا جیت گیا
میں کہنے میں ہی بیت گیا
وہ جنگ انا کی جیت گیا
میں ہار گیا میں بیت گیا
میں دیکھ کہ صندل آنکھوں میں
میں ڈوب کہ صندل آنکھوں میں
میں سمجھا تھا سب جیت گیا
سب آنکھوں میں ہی بیت گیا
وہ جنگ انا کی جیت گیا
میں ہار گیا میں بیت گیا
پھر مات ہوئی ان لفظوں کو
پھر طول دیا ان وقفوں کو
وہ وقفوں سے بھی جیت گیا
میں وقفوں میں ہی بیت گیا
وہ جنگ انا کی جیت گیا
میں ہار گیا میں بیت گیا
جو ہٹ سا گیا تھا نقطے سے
جو لوٹ گیا تھا رستے سے
ہر منزل پھر بھی جیت گیا
میں رستوں میں ہی بیت گیا
وہ جنگ انا کی جیت گیا
میں ہار گیا میں بیت گیا
چہروں میں بڑے ہی چہرے تھے
رنگ ایک سے بڑھ کے سنہرے تھے
اِس دل کو جو چہرہ جیت گیا
اس چہرے میں سب بیت گیا
وہ جنگ انا کی جیت گیا
میں ہار گیا میں بیت گیا
اُسے بھول رہی جو کہانی ہے
ہمیں یاد وہ آج زبانی ہے
وہ کہانی بنا کر جیت گیا
میں کہانی بن کے بیت گیا
وہ جنگ انا کی جیت گیا
میں ہار گیا میں بیت گیا
وہ اتاش جسے تم ڈھونڈتے ہو
وہ شخص تو کب کا بیت گیا
ذیشان اتاش
No comments:
Post a Comment