Monday, 3 May 2021

وہ جنگ انا کی جیت گیا

 وہ جنگ انا کی جیت گیا

میں ہار گیا میں بیت گیا

پل پل میرے پھر سال ہوئے

پھر سال یوں سال بہ سال ہوئے

وہ لمحوں میں ہی جیت گیا

میں لمحوں میں ہی بیت گیا

وہ جنگ انا کی جیت گیا

میں ہار گیا میں بیت گیا

کچھ میرے پاس بھی رہنے دو

جو کہنا تھا مجھے کہنے دو

وہ سب کچھ میرا جیت گیا

میں کہنے میں ہی  بیت گیا

وہ جنگ انا کی جیت گیا

میں ہار گیا میں بیت گیا

میں دیکھ کہ صندل آنکھوں میں

میں ڈوب کہ صندل آنکھوں میں

میں سمجھا تھا سب جیت گیا

سب آنکھوں میں ہی بیت گیا

وہ جنگ انا کی جیت گیا

میں ہار گیا میں بیت گیا

پھر مات ہوئی ان لفظوں کو

پھر طول دیا ان وقفوں کو

وہ وقفوں سے بھی جیت گیا

میں وقفوں میں ہی بیت گیا

وہ جنگ انا کی جیت گیا

میں ہار گیا میں بیت گیا

جو ہٹ سا گیا تھا نقطے سے

جو لوٹ گیا تھا رستے سے

ہر منزل پھر بھی جیت گیا

میں رستوں میں ہی بیت گیا

وہ جنگ انا کی جیت گیا

میں ہار گیا میں بیت گیا

چہروں میں بڑے ہی چہرے تھے

رنگ ایک سے بڑھ کے سنہرے تھے

اِس دل کو جو چہرہ جیت گیا

اس چہرے میں سب بیت گیا

وہ جنگ انا کی جیت گیا

میں ہار گیا میں بیت گیا

اُسے بھول رہی جو کہانی ہے

ہمیں یاد وہ آج  زبانی ہے

وہ کہانی بنا کر جیت گیا

میں کہانی بن کے  بیت گیا

وہ جنگ انا کی جیت گیا

میں ہار گیا میں بیت گیا

وہ اتاش جسے تم ڈھونڈتے ہو

وہ شخص تو کب کا بیت گیا


ذیشان اتاش

No comments:

Post a Comment