Monday, 3 May 2021

اس نے ہمارے ہاتھ میں اک ہاتھ کیا دیا

 اس نے ہمارے ہاتھ میں اک ہاتھ کیا دیا

کچھ دیر تو ہتھیلی پہ جلتا رہا دِیا

میں اس کے انتظار میں کھوئی کچھ اس طرح

آنکھیں ہوئیں چراغ تو گھر تھا دِیا دِیا

آنگن میں جیسے ایک چراغاں سا ہو گیا

ایسا کہاں سے لائی تھی شب کو ہوا دِیا

دل کی تمام رونقیں اس کے ہی دم سے تھیں

ڈُوبا جو چاند ہم نے دِیا ہی بجھا دیا

ہم چاہتے تھے ماہِ درخشاں کو دیکھنا

اس نے ہمیں دریچے سے چہرہ دِکھا دیا

وہ مُدعا شناس تھا میرا کچھ اس طرح

کچھ سوچنے سے پہلے ہی یہ کہہ دیا، دیا


عائشہ مسعود ملک

No comments:

Post a Comment