Wednesday, 12 May 2021

شب ڈھلی میری اور سحر نہ ہوئی

 شب ڈھلی میری اور سحر نہ ہوئی

حد ہوئی آپ کو خبر نہ ہوئی

آپ کہتے تھے پُر خطر جتنی

سخت اتنی بھی راہگزر نہ ہوئی

رہ گیا درد دل کے پہلو میں

یہ جو الفت تھی دردِ سر نہ ہوئی

وقتِ آخر کھُلا ہے یہ عُقدہ

بھولی صورت بھی بے ضرر نہ ہوئی

کیا سے کیا کہہ رہے ہیں آپ سراج

آپ کی بات بار ور نہ ہوئی


عفیف سراج

No comments:

Post a Comment