Wednesday, 12 May 2021

بالکنی سے باہر جھانکا آئینے میں صورت دیکھی

 آج اس نے پھر دھوکا کھایا


بالکنی سے باہر جھانکا

آئینے میں صورت دیکھی

لپ اسٹک سے ہونٹ سنوارے

اپنی گھڑی کو جھُوٹا سمجھا

باہر آ کر وقت ملایا

وقت کو بھی جب سچا پایا

غصے میں دانت اپنے پِیسے

ریشم جیسے بال کھسوٹے

سارے خط چولہے میں جھونکے

آئینے پر پتھر مارا

اتنے میں پھر آہٹ پائی

دوڑی دوڑی باہر آئی

لیکن خود کو تنہا پایا

آج اس نے پھر دھوکا کھایا


آفتاب شمسی

No comments:

Post a Comment