Wednesday, 12 May 2021

دیکھے کوئی تعلق خاطر کے رنگ بھی

 دیکھے کوئی تعلق خاطر کے رنگ بھی

اس فتنہ خو سے پیار بھی ہے اور جنگ بھی

دل ہی نہیں ہے اس کے تصور میں شاد کام

اک سر خوشی میں جھومتا ہے انگ انگ بھی

کچھ ربط خاص اصل کا ظاہر کے ساتھ ہے

خوشبو اڑے تو اڑتا ہے پھولوں کا رنگ بھی

ایسا نہیں کہ آٹھ پہر بے دلی رہے

بجتے ہیں غم کدے میں کبھی جل ترنگ بھی

دیکھا ہے آج اس نے مجھے مڑ کے آفتاب

اس واقعے پہ خوش بھی ہوں میں اور دنگ بھی


آفتاب حسین

No comments:

Post a Comment