Saturday, 15 May 2021

پہلے تو شہر ایسا نہ تھا

پہلے تو شہر ایسا نہ تھا


 اک بار چل کر دیکھ لیں

شاید گزشتہ موسموں کا کوئی اک

دھندلا نشاں مل جائے

اور پھر سے فضا شاداب ہو

اجڑا ہوا اک خواب ہو

تصویر میں کچھ گرد باد باقیات منبر و محراب ہو

اک بار چل کر دیکھ لیں

پھر بند ہوتے شہر کے بازار کو

جھانکیں ذرا

اجڑی دکانوں میں

کلاہ و جبہ و دستار کو

اک شہر تازہ کار کو کچھ دیر بھولیں

اور اس کو سلوٹوں میں

ڈھونڈیں اک کھوئی ہوئی تصویر کو

تصویر میں کچھ باقیات منبر و محراب ہیں

کچھ جلوہ ہائے عہد عالم تاب ہیں

وہ لاش جو کچلی گئی

وہ خواب جو روندے گئے

وہ نام جو بھولے گئے

ان سلوٹوں میں دفن

کتنی برکتوں کے راز ہیں

اک بار چل کر دیکھ لیں

پہلے تو شہر ایسا نہ تھا


عین تابش

No comments:

Post a Comment